17 اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اہل جہنم مذکورہ بالا عذاب شدید سے اس لئے دوچار ہوئے کہ انہوں نے اپنے آباء و اجداد کو راہ ہدایت سے بھٹکا ہوا پایا تو انہی کے پیچھے ہو لئے اور شرک و کفر اور ضلالت و گمراہی میں ان کی تقلید کرنے لگے، صاحب محاسن التنزیل لکھتے ہیں کہ آیات (96، 07) میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ مشرکین مکہ نے بغیر غور و فکر اور محض اندھی تقلید کی بنیاد پر اپنے باپ دادوں کی پیروی میں تیزی کی۔ فخر الدین رازی لکھتے ہیں کہ اگر قرآن کریم میں اس ایک آیت کے سواذم تقلید میں کوئی دوسری آیت نہ ہوتی تو کبھی کافی ہوتی۔