(11) جب کافروں اور سرکشوں کا قیام کے دن وہ انجام ہوگا جو اوپر بیان کیا گیا، تو اب قرآن کریم کے عام قاعدہ کے مطابق اہل صالح و تقویٰ کا انجام بیان کیا جا رہا یہ، نیز یہاں ان مشرکین کیتردیدبھی کی گئی ہے جو غریب مسلمانوں کے فقر و فاقہ کا مذاق اڑانے اور اپنے آپ کو جھوٹی تسلی دینے کیلئے کہا کرتے تھے کہ اگر بالفرض قیامت آئے گی تو ہمارا اللہ ہمیں آخرت میں بھی ان بھوکوں اور ننگوں سے اچھی حالت میں رکھے گا، جیسا کہ اس نے ہمیں یہاں مال و دولت سے نواز رکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرنے والے مسلمانوں کو قیامت کے دن ان کے رب کے پاس ایسی جنتیں ملیں گی جن میں نعمتیں ہی نعمتیں ہوں گی، عقل کے اندھے کفار و مشرکین یہ کیسے سمجھتے ہیں کہ ہم اللہ کی بندگی کے لئے سرجھکانے والے مسلمانوں کو ان مجرمرین کے مانند دیں گے جو شرک اور کبائر معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں کہ ہم اللہ کی بندگی کے لئے سر جھکانے والے مسلمانوں کو ان مجرمین کے مانند بنا دیں گے جو شرک اور کبار معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اے کفار مکہ ! تمہارے پاس کون سی طاقت ہے اور تم کس دلیل کی بنیاد پر ایسا فیصلہ کرتے ہو کیا تمہارے پاس کوئی آسمانی کتاب ہے جس میں یہ فیصلہ درج ہے کہ تم لوگ قیامت کے دن بھی مومنوں سے اچھی حالت میں رہو گے؟ کیا اس کتاب میں وہ بات ہے جسے تم اپنے لئے پسند کرتے ہو؟ کیا تمہارے پاس اللہ کی جانب سے قسموں کے ذریعہ پختہ کئے گئے وعدے ہیں، جو قیامت تک نہیں ٹوٹیں گے کہ تمہیں قیامت کے دن وہی ملے گا جس کا تم اپنے لئے فیصلہ وہی ملے گا جس کا تم اپنے لئے فیصلہ کرچکے ہو، یعنی تم مومنوں سے بہتر حالت میں ہو گے اے میرے نبی ! آپ ذرا ان سے پوچھے تو سہی کہ آخر ان کا وہ کون سا لیڈر ہے جس نے انہیں ان کے فیصلہ کی ضمانت دے رکھی ہے یا ان کے لئے اللہ کے کچھ شرکاء ہیں جنہوں نے انہیں اس فیصلہ کی ضمانت دے رکھی ہے اگر وہ اپنے دعویٰ میں سچے ہیں تو ان شریکوں کو سامنے لائیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ بالا باتوں میں سے کوئی بات بھی صحیح نہیں ہے جس سے ان کے جھوٹے دعویٰ کی تائید ہو اس لئے معلوم ہوا کہ ان کا دعویٰ کبر و عناد اور فساد عقل پر مبین ہے، جو روز قیامت ان کے انجام بد کو نہیں بدل سکے گا۔