(14) آیات (20) سے (23) تک کا سبب نزول یہ ہے کہ کفار قریش نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ تم نے ایک بڑی بات کا دعویٰ کردیا ہے اور اپنے لئے تمام لوگوں کی عداوت خرید لی ہے، تم اپنی اس دعوت سے باز آجاؤ، اور ہم لوگ تمہاری حفاظت کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ باتیں کہنے کا حکم دیا جن کا ذکر ان آیات میں آیا ہے:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے نبی ! آپ کہہ دیجیے کہ میں اپنے رب کی عبادت کرتا ہوں اور ص رفاسی کو پکارت اہوں، اور اس کے اتھ کسی کو شریک نہیں بناتا ہوں اور یہ کوئی ایسی بری بات نہیں ہے جس کے سبب تم سب میری عداوت پر متفق ہوگئے ہو۔
اے میرے نبی ! آپ کفار قریش سے یہ بھی کہہ دیجیے کہ میں نے تمہیں نقصان پہنچاین پر قادر ہوں، نہ ہی میں تمہیں راہ راست پر لا سکتا ہوں، ایسی قدرت تو صرف اللہ کو حاصل ہے، اس لئے تم لوگ مجھ سے جلد عذاب لگانے کا مطالبہ نہ کرو۔
اور اے میرے نبی ! آپ ان کافروں سے یہ بھی کہہ دیجیے کہ اگر اللہ مجھے تکلیف دینا چاہے، تو کوئی مجھے بچا نہیں سکتا اور اگر وہ مجھے ہلاک کرنا چاہے تو مجھے کوئی جائے پناہ نہیں ملے گی۔
اے میرے نبی ! آپ کہہ دیجیے کہ میں تو صرف اللہ کا پیغامبر اور اس کا رسول ہوں اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کے رسول کی دعوت کو قبول نہیں کرے گا، اس کا ٹھکانا نار جہنم ہوگا، جس میں وہ ہمیشہ جلتا رہے گا۔