(2) (ووالدوما ولد) کا عطف (ھذا البلد) پر ہے۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد آدم اور ان کی ذریت ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد ابراہیم اور ان کی ذریت ہے ابن جریر کے نزدیک اس سے مراد والد و مولود ہے، اس لئے کہ آدم یا ابراہیم کے ساتھ خاص کرنے کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔