(3) اور اللہ کا یہ ناشکر گذار بندہ اپنی ناشکری اور احسان فراموشی پر شاہد ہوتا ہے، اس کا دل گواہی دیتا رہتا ہے کہ وہ اپنے رب کا ناشکر گزار بندہ ہے اور اس ناشکری کے آثار بھی اس کی ذات پر عیاں ہتے ہیں، اس مفہوم کے مطابق (وانہ علی ذلک لشھید) میں " انہ" کی ضمیر انسان کے لئے ہوگی، دوسرا مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے باندے کی ناشکر گزاری اور احسان فراموشی پر گواہ ہے اس مفہوم کے اعتبار سے اس میں اللہ کی جانب سے زبردست دھمکی ہے کہ رب العالمین اس کی احسان فراموشی کو دیکھ رہا ہے اور قیامت کے دن اسے اس کا مزا چکھائے گا اس اعتبار سے " وانہ" کی ضمیر اللہ کے لئے ہوگی۔
امام شوکانی کے نزدیک پہلامفہوم ہی راجح ہے کیونکہ اس کے بعد آیت (8) (وانہ لحب الخیر لشدید) میں " انہ" کی ضمیر انسان کے لئے ہے اور معنی یہ ہے کہ انسان مال و دولت سے بے انتہاء محبت کرتا ہے اور اس کے حصول کے لئے ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور اپنی جان جوکھم میں ڈال دیتا ہے۔