فهرس الكتاب

الصفحة 5174 من 6343

(11) جن دنوں یہ سورت مدینہ میں نازل ہوئی، ان دنوں منافقین کا نفاق انتہاء کو پہنچ چکا تھا، رات دن وہ لوگ یہودیوں کے ساتھ مل کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے تھے اور انہیں نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ میں انہی منافقین کا پردہ فاش کیا گیا ہے کہ وہ لوگ مسلمان نہیں ہیں اور نہ وہ یہودیوں میں سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحشر آیت (11) میں بھی منافقوں کی اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے اور کہا ہے: (الم ترالی الذین نافقوا یقولون لاخوانھم الذین کفروا من اھل الکتاب لئن اخرجتم لنخرجن معکم) الآیۃ " کیا آپ نے منافقوں کو نہیں دیکھا کہ اپنے اہل کتاب کافر بھائیوں سے کہتے ہیں اگر تم جلا وطن کئے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ ضرور نکل کھڑے ہوں گے۔" اور سورۃ النساء آیت (143) میں فرمایا ہے: (مذبذبین بین ذلک لا الی ھولآء ولا الی ھولآء) " وہ درمیان میں ہی معلق ڈگمگا رہے ہیں نہ پورے ان کی طرف، نہ صحیح طور سے ان کی طرف"

(ویحلفون علی الکذب) کی تفسیم ابن جریر طبری نے یہ بیان کی ہے کہ منافقین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہتے تھے، ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، حالانکہ وہ اپنی گواہی میں جھوٹے ہوتے تھے، یعنی وہ جانتے تھے کہ صدق دل سے یہ گواہی نہیں دے رہے ہیں۔ آیات (15) سے (19) تک انہی منافقین کا حال و انجام بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے ان کے لئے بہت ہی شدید عذاب تیار کر رکھا ہے اس لئے کہ ان کے کرتوت بہت ہی برے تھے انہوں نے اپنی جانیں بچانے کے لئے اپنی جھوٹی قسموں کو ڈھال بنا لیا اور لوگوں کو در پردہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے سے روکتے رہے۔

آیت (16) میں (فصدوا عن سبیل اللہ) کا ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہ جھوٹی قسموں کی وجہ سے اپنے بارے میں اللہ کے حکم یعنی قتل سے بچتے رہے، لیکن آخرت میں وہ اللہ کے رسوا کن عذاب سے نہ بچ سکیں گے۔ آیت (17) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس دن ان کے اموال اور ان کی اولاد انہیں اللہ کے مقابلے میں کوئی کام نہ آئے گی اور ان کا ٹھکانہ ہمیشہ کے لئے جہنم ہوگا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت