(8) اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہے گا کہ ان مجرموں کو میدان محشر میں روک لو تاکہ ان سے ان کے عقائد، اقوال اور اعمال کے بارے میں پوچھا جائے، پھر ان سے زجر و توبیخ کے طور پر پوچھا جائے گا کہ تم لوگ دنیا کی طرح یہاں بھی ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کر رہے ہو؟ ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہ ہوگا، اس دن تو ذلت و رسوائی سے ان کی گردنیں جھکی ہوں گی اور ان میں سے جو کمزور لوگ دنیا میں متکبرین کی پیروی کرتے رہے تھے، ان متکبرین سے پوچھیں گے کہ تم لوگ دنیا میں ہمیں اپنی پیروی پر مجبور کرتے تھے، تو آج کیوں نہیں ہماری مدد کے لئے آگے بڑھتے ہو اور جہنم کا عذاب ہم سے ٹال دیتے ہو؟