فهرس الكتاب

الصفحة 1775 من 6343

(12) جب کافروں نے دیکھا کہ انبیاء صبر کا پہاڑ بنے مصیبتوں کو جھیل رہے ہیں اور اللہ پر ان کا ایسا زبردست بھروسہ ہے کہ دعوت کی راہ میں انہیں کسی بات کی پرواہ نہیں، تو انہوں نے علی الاعلان دھمکی دے دی کہ یا تو تم ہمارے دین میں دوبارہ واپس آجاؤ گے یا تمہیں اپنا گھر بار اور وطن چھوڑنا پڑے گا۔ امام رازی لکھتے ہیں کہ اہل حق پر زمانے میں کم ہوا کیے ہیں اور اہل باطل کی کثرت رہی ہے اور حق کا چراغ بجھانے کے لیے ہمیشہ آپس میں تعاون کرتے رہے ہیں، اسی لیے انہوں نے کبر و غرور میں انبیاء کو ایسی دھمکی دی، تو اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام کو اطمینان دلایا اور کہا کہ آپ پریشان نہ ہوں، ہم ظالموں کو ہلاک کردیں گے اور زمین کا مالک آپ ہی کو بنائیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الصافات آیات (173، 172، 171) میں فرمایا ہے: (سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین۔ انھم لھم المنصورون۔ وان جندنا لھم الغالبون) یعنی ہمارا وعدہ پہلے ہی اپنے رسولوں کے لیے صادر ہوچکا ہے کہ وہ مظفر و منصور ہوں گے اور ہمارا ہی لشکر غالب اور برتر رہے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت