(5) اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے انہیں اپنی نعمتیں دے کر آزمانا چاہا، انہیں ان کی خواہش کے مطباق مال و دولت، اولاد اور لمبی عمر دی اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا، اس لئے نہیں کہ وہ ہمارے بڑیم حبوب بندے تھے، بلکہ ان کی رسی ڈھیل دی اور انیں اس کا احساس تک نہیں ہوا اور کفر و عناد میں بڑھتے چلے گئے، جیسے اہل کتاب یا حبشہ کے وہ لوگ جو اپنے باپ کے مرنے کے بعد ایک باغ کے وارث ہوئے تھے جب اس کا پھل پک گیا تو انہوں نے آپس میں طے کیا کہ وہ صبح سویرے جا کر کسی آدمی کے جاگنے سے پہگے اس کے پھل کاٹ لیں گے، تاکہ کوئی فقیر و مکسنی آ کر ان سے صدقہ نہ مانگے وہ اس گمان میں مبتلا ہوگئے کہ اب اس باغ کے پھل کا حصول امر یقینی ہوگیا ہے کوئی چیز اس راہ میں حائل نہیں ہے اور بھول گئے کہ اللہ کی مرضی کے بغیر وہ کسی چیز پر قادر نہیں ہیں، انہوں نے انشاء اللہ نہیں کہا کہ اگر اللہ چاہے گا تو ہم اپنے باغ کا پھل کاٹ لیں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ایک عذاب رات ہی میں اس باغ پر نازل ہوا اور سارا باغ جل کر اندھیری رات کی طرح کالا اور خاکستر ہوگیا اور کچھ بھی باقی نہ رہا۔