55۔ جو شخص اللہ کے دین سے اعراض کرتا ہے اور قرآن کریم کی تلاوت اور اس پر عمل کرنا ترک کردیتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس عمل بد کا یہ بدلہ دیتا ہے کہ ہر چہار جانب سے اسے تنگی گھیر لیتی ہے اور روزی کی کشادگی کے باوجود اس کا سکون و اطمینان چھن جاتا ہے، اور مرنے کے بعد اس کی قبر بھی اس پر تنگ ہوجاتی ہے، اور اس کی برزخ کی طویل زندگی شقاوت و بدبختی سے عبادرت ہوتی ہے، اور قیامت کے دن اسے اندھا اٹھایا جائے گا اور جب اپنی اس حالت پر تعجب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے سوال کرے گا کہ میرے رب ! تو نے مجھے اندھا کیوں بنا دیا ہے میں تو دنیا میں اور قبر سے اٹھنے تک آنکھوں والا تھا؟ تو اللہ اس سے کہیں گے کہ تم دنیا میں اسی طرح آنکھیں رکھنے کے باوجود دل کے اندھے تھے اور ہماری آیتوں کو ٹھکراتے تھے اس لیے آج تم جہنم میں ڈال دیئے جاؤ گے، اور کوئی تمہارا پرسان حال نہ ہوگا۔
آیت (127) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ اپنی شہوتوں میں منہمک ہو کر اللہ کے دین کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اللہ انہیں دنیا و آخرت میں ایسا ہی بدلہ دیتا ہے اور آخرت کا عذاب بڑا ہی دردناک اور بہت ہی طویل ہوگا۔