فهرس الكتاب

الصفحة 2594 من 6343

(33) یہاں امۃ سے مراد دین وملت ہے، اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ مذکورہ بالا آیتوں میں جن انبیائے کرام کا ذکر آیا ہے ان کے علاوہ بھی حضرت آدم سے لے کر نبی کریم تک جتنے انبیا گزرے ہیں۔ سبھوں کا عقیدہ اور دین ایک ہی تھا، سبھی عقیدہ توحید پر قائم اور اس کی دعوت دینے والے تھے، ہر نبی نے اپنے عہد کے لوگوں کو توحید باری تعالیٰ کی دعوت دی، شرک سے ڈرایا اور انہیں بتایا کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام مخلوقات کا رب ہے، اس لیے صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیے۔

لیکن تمام انبیائے کرام کے دنیا سے گزر جانے کے بعد ان کی امتیں مرور زمانہ کے ساتھ اسل توحید سے برگشتہ ہوتی چلی گئیں، اور مختلف جماعتوں اور فرقوں میں بٹتی گئی کسی نے اپنا نام یہودی رکھ لیا، کسی نے نصرانی اور کسی نے بت پرست اور اصل دین دین اسلام کا نام ان کے ذہنوں سے محو ہوگیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان سب گروہوں کو ہامرے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے، تو ان میں سے جو لوگ موحد ہوں گے اور حالت ایمان میں عمل صالح کیا ہوگا، اللہ ان کی محنت کو رائیگاں نہیں کرے گا، وہ اپنے فرشتوں کے ذریعہ بندوں کے تمام اعمال کو لکھ رہا ہے۔ اسی مفہوم کو اللہ نے سورۃ الاسرا آیت (19) میں یوں بیان کیا ہے: (ومن اراد الاخرۃ وسعی لھا سعیھا وھو مومن فاولئک کان سعیھم مشکورا) جس کا ارادہ آخرت کا ہو اور جیسی کوشش اس کے لیے ہونی چاہیے وہ کرتا بھی اور وہ بایمان بھی ہو، پس یہی لوگ ہیں جن کی کوشش کی اللہ کے یہاں پوری قدر دانی کی جائے گی۔

آیت (95) میں فرمایا کہ صالحین و موحدین کے مقابلے میں جو لوگ کافر و مشرک ہوں گے اور ان کے کفر و شرک کی وجہ سے اللہ انہیں دنیا میں ہلاک کردے گا تو قیامت کے دن وہ ضرور اپنے رب کے حضور جزا و سزا کے لیے لائے جائیں گے۔ اس بات کو اللہ نے قطعی طور پر حرام کردیا ہے کہ وہ قیامت کے دن اس کے پاس لوٹ کر نہ آئیں، آیت کا ایک دوسرا مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو قوم اپنے گناہوں کی وجہ سے دنیا میں ہلاک کردی جاتی ہے، اسے دوبارہ دنیاوی زندگی نہیں دی جاتی ہے۔ تیسرا مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ جس قوم کے بارے میں دنیاوی یا اخروی عذاب کا فیصلہ ہوجاتا ہے وہ توبہ کر کے ایمان و عمل صالح کی زندگی ہرگز اختیار نہیں کرتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت