فهرس الكتاب

الصفحة 5568 من 6343

(1) سورۃ الزمل کی پہلی آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو " الزمل" کا خطاب از راہ لطف و محبت دیا ہے۔ " المدثر" کے بارے میں بھی یہی بات صحیح ہے، یعنی بھی اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس خطاب سے از راہ لطف و محبت نوازا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا کہ اے کمبل اوڑھنے والے " اب راحت و آرام کو چھوڑ دیجیے اور پوری ہمت و نشاط کے ساتھ مکہ کے مشرکین کو عذاب نار سے ڈرائیے۔ "

اور اپنے رب کی عظمت و کبریائی بیان کیجیے اور مشرکین سے کہئے کہ اللہ سب سے بڑا ہے، اس لئے تم اس کے سوا کسی کے سامنے نہ جھکو اور کسی کے سامنے دست سوال نہ پھیلاؤ۔

" اور اپنے کپڑوں کی پاکیزگی کا خیال رکھئے" اس آیت میں کپڑوں سے مراد تمام اعمال ہیں، گویا اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نصیحت کی کہ آپ اپنے تمام اعمال کو نام و نمود، ریا کاری، نفاق، کبر و غرور اور غفلت و کاہلی سے پاک و صاف رکھئے اور کپڑوں کو پاک رکھنا اس میں بدرجہ اولی داخل ہے، اس لئے کہ اعمال کی پاکیزگی میں یہ بھی داخل ہے۔

یہ بھی جائز ہے کہ کپڑوں سے مراد کپڑے ہی ہوں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ ہر وقت تمام نجاستوں سے اپنے کپڑوں کی پاکی کا خیال رکھئے، بالخصوص جب آپ نماز پڑھئے، اور ظاہر ہے کہ جب آپ کو ظاہری پاکیزگی کا اہتمام کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو باطنی پاکیزگی بدرجہ اولیٰ مطلوب ہے۔

اور جن بتوں کی عبادت آپ کی قوم کرتی ہے، ان کے قریب بھی نہ جائیے، اس لئے کہ وہ ناپاک اور پلید ہیں۔ سورۃ الحج آیت (30) میں آیا ہے: (فاجتنبوا الرجس من الاوثان) " پس تم لوگ رجس یعنی بتوں سے بچو" عربی زبان میں " رجز" اور " رجس" دونوں کا ایک ہی معنی ہے، یعنی قبیح اور گندی چیز یہ بھی ممکن ہے کہ " رجز" سے مراد تمام برے اقوال و افعال ہوں، یعنی آپ تمام چھوٹے بڑے اور ظاہر و باطن گناہوں سے قطعی طور پر الگ رہئے، مکارم اخلاق کو اپنائیے اور مشرکوں کے اخلاق سے دور رہئے۔

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) " رجز" اور " رجس" کے دونوں ہی مفہوم سے بالکل پاک تھے، اس لئے مقصود یا تو دوسروں کو اس کی نصیحت کرنی ہے یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ نصیحت کرنی ہے کہ آپ بتوں سے اور تمام گناہوں اور برے اخلاق سے کنارہ کشی پر دوام برتئے۔

اور لوگوں کے ساتھ دینی یا دنیوی احسان کر کے اسے جتائیے نہیں اور آپ کے دل میں یہ بات نہ آئے کہ آپ نے فلاں پر بڑا احسان کیا ہے، بلکہ جتنا ہو سکے بھلائی کئے جائیے اور اسے بھول جائیے اور اس کے اجر و ثواب کی امید اللہ رب العالمین سے رکھے، گویا آپ کا حال ایسا ہو کہ جس پر احسان کیا ہے اور جس پر نہیں کیا ہے دونوں ہی آپ کی نظر میں برابر ہوں۔

بعض مفسرین نے (ولا تمنن تسکثر) کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ کسی کو کوئی چیز اس نیت سے نہ دیجیے کہ وہ آپ کو اس کے بدلے اس سے زیادہ دے۔ اس اعتبار سے یہ حکم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ خاص ہوگا۔

اور دعوت اسلامیہ کی راہ میں آپ کو مخالفین کی جانب سے جو تکلیف پہنچتی ہے اس پر اپنے رب کی رضا مندی کی نیت سے صبر کیجیے۔

مذکورہ بالا آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جن باتوں کا حکم دیا، ان تمام پر آپ نے عمل کیا، لوگوں کو عذاب آخرت سے ڈرایا، قرآن کریم کی صریح اور واضح آیتیں پڑھ کر ان کے سامنے تمام مقاصد الٰہیہ کو بیان کیا، اللہ کی عظمت و کبریائی بیان کی، اور مخلوق کو رب العالمین کی تعظیم کی دعوت دی، اپنے ظاہری اور باطنی تمام اعمال کو گندگیوں اور آلودگیوں سے یکسر پاک رکھا، بتوں، گناہوں اور برے اخلاق سے ہمیشہ دور رہے۔ اللہ تعالیٰ کے بعد آپ نے لوگوں پر احسان عظیم کیا اور ان سے کسی بدلہ کی امید نہیں رکھی، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے رب کی رضا کی خاطر زندگی بھر اس کی بندگی کی، گناہوں سے پرہیز کیا اور دعوت کی راہ میں جو تکلیف بھی پہنچی اسے برداشت کیا اور اس باب میں اولوالعزم انبیاء و رسل پر فوقیت لے گئے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت