(18) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی جا رہی ہے کہ جب کفار قریش کا حال وہ ہے جو اوپر بیان ہوا ہے کہ دعوت حق سے استفادہ کی ہر صلاحیت ان سے سلب کرلی گئی ہے، تو آپ ان کے کفر و شرک پر غمگین نہ ہویئے، بلکہ جو قرآن آپ پر نازل ہوا ہے اور جو دین حق آپ کو دیا گیا ہے اس پر گامزن رہئے اور اللہ کا شکر ادا کیجیے جو قرآن آپ پر نازل ہوا ہے وہ آپ اور آپ کی امت کے لئے نہایت باعث شرف و عزت ہے اور عبرت و موعظت، علوم و حکم اور شرائع اسلام کا خزانہ ہے، قیامت کے دن آپ کی امت سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے کس حد تک اس میں مذکور اوامرو نواہی کی پابندی کی۔