فهرس الكتاب

الصفحة 5227 من 6343

(4) حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے، اس آیت کے ذریعہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کو کافروں اور منافقوں کی جانب سے جواذیت پہنچتی ہے اس پر صبر کیجیے جیسا کہ موسیٰ نے اپنی قوم کی اذیتوں پر صبر کیا تھا، چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبد اللہ بن مسعود (رض) سے مروی حدیث میں فرمایا ہے، جسے بخاری نے روایت کی ہے کہ اللہ کی رحمت ہو موسیٰ پ انہیں اس سے زیادہ اذیت دی گئی تو انہوں نے صبر کیا۔

آگے لکھا ہے: اس آیت کے ذریعہ مومنوں کو منع کیا گیا ہے کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اذیت کا سبب بنیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاحزاب آیت (96) میں فرمایا ہے: (یایھا الذین امنوا الاتکونوا کالذین اذوا موسی) " اے ایمان والو ! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے موسیٰ کو اذیت پہنچائی تھی۔ "

آیت کا مفہوم یہ ہے کہ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا لوگو ! تم میری مخالفت کر کے مجھے کیوں تکلیف پہنچاتے ہو، حالانکہ تمہیں میرے ظاہر و باہر معجزات کے ذریعہ علم یقین حاصل ہوچکا ہے کہ میں اللہ کا سچا رسول ہوں۔

اللہ نے فرمایا کہ جب انہوں نے زیغ و ضلال پر اصرار کیا تو اللہ نے ان کے دلوں کو راہ حق سے برگشتہ کردیا اور قبول حق کی توفیق چھین لی، اس لئے کہ وہ اہل فسق کو ہایت کی توفیق سے محروم کردیتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت