فهرس الكتاب

الصفحة 2523 من 6343

(11) ذیل میں آنے والی آیتوں میں مشرکین مکہ کے شرک کی تردید کی گئی ہے، اور عبادت میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو ثابت کیا گیا ہے۔ آیت (21) میں کہا گیا ہے کہ مشرکین کے تراشے ہوئے اصنام کیا مردوں کو زندہ کرسکتے ہیں؟ جواب معلوم ہے کہ وہ ایسا نہیں کرسکتے ہیں، اور مشرکین کو بھی اس کا اعتراف ہے، اس لیے وہ کسی حال میں بھی عبادت کے مستحق نہیں بن سکتے ہیں۔

آیت (22) میں اس حقیقت پر دلیل پیش کی گئی ہے کہ ایک اللہ کے سوا چند معبودوں کا ہونا عقلی طور پر محال ہے، اگر ایسا ہوتا تو آسمان و زمین کا پورا نظام مختل ہوجاتا، ہر معبود اپنی مرضی چلانا چاہتا، نتیجہ یہ نکلتا کہ ان کے آپس میں اختلاف واقع ہوجاتا اور پورا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ المومنون آیت (91) میں فرمایا ہے: (وما کان معہ من الہ اذا لذھب کل الہ بما خلق ولعلا بعضھم علی بعض) اس کے ساتھ اور کوئی معبود نہیں ہے، ورنہ ہر معبود اپنی مخلوق کو لیے پھرتا اور ہر ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتا۔

چونکہ چند معبودوں کا پایا جانا ناممکن ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے شرک سے اپنی پانی بیان کی ہے اور آیت (23) میں ربوبیت و الوہیت کو اپنے لیے مطلق طور پر ثابت کیا ہے کہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، کوئی نہیں جو اس کے کسی فعل پر اعتراض کرے، اور اس کے سوا جتنے جن و انس ہیں سب سے ان کے اعمال کا حساب لیا جائے گا، اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سب اس کے بندے اور غلام ہیں اور وہی سب کا اللہ ہے سب کا آقا اور سب کا معبود ہے۔

آیت (24) میں مشرکین مکہ کے شرک کی دوبارہ تردید کی گئی ہے اور رسول کریم سے کہا گیا ہے کہ آپ ذرا ان سے پوچھیے تو سہی کہ تم جو اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بناتے ہو، تو اپنے دعوی کی صداقت پر دلیل بھی تو پیش کرو، یعنی تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ پھر کہا کہ یہ قرآن کریم ہے جو مسلمانوں کی کتاب ہے اور تورات و انجیل بھی کسی نہ کسی حال میں موجود ہے، ان میں سے کسی بھی کتاب میں اللہ کا کسی کو شریک نہیں ثابت کیا گیا ہے، تو پھر تم کس دلیل کی بنیاد پر ایسی خطرناک بات اپنی زبان پر لاتے ہو، حقیقت یہ ہے کہ تمہیں قرآن کریم کی عظمت کا احساس ہی نہیں ہے، اسی لیے توحید الوہیت سے متعلق اس میں بیان کردہ دلائل و براہین سے تم اعراض کر رہے ہو۔

آیت (25) میں بھی مذکور بالا مضمون یعنی توحید باری تعالیٰ کی مزید تاکید بیان کی گئی ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے زمانے سے لے کر نبی کریم کے زمانے تک جتنے انبیا مبعوث ہوئے اور جتنی آسمانی کتابیں نازل ہوئیں ان سب کا ایک ہی پیغام تھا، کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نیہں، اس لیے صرف اسی کی عبادت ہونی چاہیے، اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی بہت ساری آیتوں میں بیان کیا ہے۔ انہی میں سے سورۃ الزخرف کی آیت (45) (واسال من ارسلنا من قبلک من رسلنا اجعلنا من دون الرحمن الھۃ یعبدون) اور سورۃ النحل کی آیت (36) ( ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا ان اعبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت) ہے۔ ان دونوں آیتوں میں یہی بات بیان کی گئی ہے کہ تمام انبیا کی بعثت کا مقصد ابن آدم کو یہ تعلیم دینی تھی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور صرف وہی ہر قسم کی عبادت کا مستحق ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت