(23) ابراہیم (علیہ السلام) آگ سے نکلنے کے بعد لوگوں کے سامنے توحید کی دعوت پیش کرتے رہے اور دن بدن ان کے خلاف بت پرستوں کی عداوت بڑھتی ہی گئی، یہاں تک کہ اللہ نے انہیں اپنا ملک چھوڑ کر سرزمین شام کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا تو وہ اپنے بھتیجا لوط (جو ان کے بھائی ہاران اصغر کے بیٹے تھے) اور اپنی بیوی سارہ (جو ان کے چچا ہاران اکبر کی بیٹی تھیں) کے ساتھ ملک شام کی طرف روانہ ہوگئے جو اپنی زرخیزی، درختوں، نہروں اور پھلوں کی کثرت کی وجہ سے مشہور تھا، اور جو بہت سے انبیا کی جائے پیدائش تھا اور اسی لیے اللہ نے اسے مومن و کافر سب کے لیے مبارک کہا ہے۔
ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی تھی کہ ( رب ھب لی من الصالحین) اے میرے رب ! مجھے نیک لڑکا عطا فرما۔ (الصافات: 100) تو اللہ نے ان کی دعا قبول کرلی تھی، چنانچہ سارہ علیہا السلام کے بطن سے اسحاق پیدا ہوئے، اور اللہ نے اپنی طرف سے فضل و کرم کرتے ہوئے اسحاق کو ابراہیم کی زندگی میں ہی یعقوب جیسا بیٹا دیا جو اپنے دادا اور باپ کی طرح نبی ہوئے، اور ان تینوں ہی حضرات کو اللہ تعالیٰ نے صالح کا لقب دیا، اس لیے کہ انہوں نے اپنے خالق و مالک کا حق عبادت پورے طور سے ادا کیا اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی میں بھی کمی نہیں کی، اور ان سب کو اللہ تعالیٰ نے رشد و ہدایت کا امام بنایا تھا، آسمانی وحی کے مطابق لوگوں کی بھلائی کی طرف رہنمائی کرتے تھے اور خود بھی نیک کام کرتے تھے، نماز کی پابندی کرتے تھے، زکوۃ دیتے تھے اور اپنے رب کی عبادت میں لگے رہتے تھے۔