فهرس الكتاب

الصفحة 1110 من 6343

(82) انہوں نے کوہ طور سے واپسی کے بعد دیکھا کہ کچھ کے علاہ سارے بنی اسرائیل بچھڑے کے ارد گرد جمع ہیں اور اس کی عبادت میں لگے ہوئے ہیں تو اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) اور دیگر مومنوں سے کہا کہ تم لوگوں نے میری بڑی بری نیابت کی ہے، چالیس دن تک بھی راہ راست پر قائم نہیں رہ سک اور بت کی پرستش شروع کردی اور اللہ اور اس کے دین کی خاطر فرط عضب میں تختیوں پر پٹخ دیا کہتے ہیں کہ وہ تختیاں پتھر کی تھیں، ٹوٹ گئیں، انہوں نے سمجھا کہ ہارون (علیہ السلام) سے تقصیر ہوئی ہے، اسی لیے ان کے سر کے بال پکڑ کر کھینچنے لگے، لیکن جب انہوں نے اپنا عذر پیش کیا کہ میں نے تو پوری کوشش کی کہ انہیں راہ راست پر رکھوں لیکن انہوں نے میری ایک نہ سنی اور بچھڑے کی پوجا کرنے لگے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت