(4) مفسرین نے لکھا ہے کہ شیاطین آسمان کے قریب پہنچ جاتے اور فرشتے جو باتیں آپس میں کرتے، انہیں سننے کی کوشش کرتے اور ان کی بعض باتیں سن کر جان جاتے کہ دنیا میں کیا ہونے والا ہے، پھر کاہنوں کو آ کر وہی باتیں بتا دیتے اور انہیں باور کراتے کہ وہ غیب کی باتیں جانتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں آسمان کے قریب تک پہنچنے سے انگاروں کے ذریعے روک دیا، یعنی وہ جب بھی ایسی کوشش کرتے ہیں انہیں انگاروں کے ذریعہ مارا جاتا ہے، جن کی زد میں آ کر کبھی تو جل جاتے ہیں اور کبھی جلتے نہیں تو بعض باتیں کاہنوں کو بتا دیتے ہیں۔
امام شوکانی نے بعض مفسرین کی رائے نقل کی ہے کہ شیاطین وحی الٰہی کو ہرگز نہیں سن پاتے، بلکہ کبھی فرشتوں کی بعض دوسری باتیں سن لیتے ہیں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الشعراء آیت (212) میں فرمایا ہے: (انھم عن السمع المعزولون) " شیاطین وحی الٰہی کو سننے سے قطعی طور پر روک دیئے گئے ہیں" اور سورۃ الملک آیت (5) میں فرمایا ہے: (وجعلناھا رجوما لشیاطین) " ہم نے ستاروں کو شیاطین کے مارنے کا ذریعہ بنایا ہے" اور سورۃ الحجر آیات (71، 81) میں فرمایا ہے: (وحفظناھا من کل شیطان رجیم، الا من استراق السمع فاتبعہ شھاب مبین) " ہم نے اسے ہر مرد ود شیطان سے محفوظ رکھا ہے، ہاں مگر جو چوری چھپے سننے کی کوشش کرے تو اس کے پیچھے دہکتا ہوا (کھلا) شعلہ لگتا ہے۔ "