(1) جمہور مفسرین کا قول ہے کہ " والمرسلات عرفاً" سے مراد " خوشگوار ہوا" ہے بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد " فرشتے" ہیں اور بعض نے " انبیاء" مراد لیا ہے پہلے قول کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ان ہواؤں کی قسم کھائی ہے، جنہیں اللہ دنیا میں اپنے بغض اوامر نافذ کرنے کے لئے بھیجتا ہے دوسرے قول کے مطابق ان فرشتوں کی قسم کھائی ہے جو وحی الٰہی اور دیگر اوامرونواہی کے ساتھ دنیا میں بھیجخے جاتے ہیں اور تیسرے قول کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ان رسولوں کی قسم کھائی ہے جنہیں وہ اپنے بندوں کے پاس پیغام رسانی کے لئے بھیجتا ہے۔
" عرفا" کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کار خیر کے لئے بھیجتا ہے یا مفہوم یہ ہے کہ اللہ انہیں پے در پے بھیجتا ہے۔ " العاصفات" سے مراد تیز و تند ہوائیں ہیں اور " الناشرات' سے مراد یا تو ہوئایں ہیں جو بادل اور بارش کو فضا میں پھیلا دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الروم آیت (84) میں فرمایا ہے: (اللہ الذی یرسل الریاح فتبر سحابا فیسطہ فی السماء) " اللہ ہی ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادل کو بکھیر دیتی ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اسے آسمان میں پھیلا دیتا ہے۔" یا اس سے مراد فرشتے ہیں جو زمین میں احکام شریعت، علم و حکمت اور نبوت و ہدایت کو پھیلا دیتے ہیں، حافظ ابن کثیر کے نزدیک راجح یہی ہے کہ المرسلات، العاصفات اور الناشرات تینوں سے مراد ہوائیں ہیں، جن کی تفصیل اوپر گذر چکی۔
" الفارقات" سے مراد وہ فرشتے ہیں جو وحی لے کر حق و باطل اور حلال و حرام کے درمیان تفریق کرنے کے لئے آسمان سے زمین پر آتے ہیں، یا وہ قرآنی آیات ہیں جو حق و باطل کے درمیان تفریق کرتی ہیں، یا وہ ہوائیں ہیں جو بادل کو چاروں طرف بکھیر دیتی ہیں۔
(الملقیات" سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ کی اس وحی کو انبیائے کرام تک پہنچاتے ہیں، جن سے مقصود انسانوں کے لئے دین حق کی وضاحت کر دینی ہوتی ہے تاکہ ضلالت و گمراہی کے لئے کسی کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے، نیز مقصود انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرا دینا ہوتا ہے، تاہ اللہ کی نافرمانی نہ کریں۔