سورۃ الانفطار مکی ہے، اس میں انیس آیتیں اور ایک رکوع ہے
تفسیر سورۃ الانفطار
نام: پہلی آیت میں ہی لفظ " انفطرت" آیا ہے، جو " الانفطار" سے ماخوذ ہے، جس کا معنی پھٹنا ہے چونکہ اس سورت میں روز قیامت آسمان کے پھٹنے کا ذکر ہے، اسی لیے لفظ " الانفطار" اس کا نام رکھ دیا گیا ہے۔
زمانہ نزول: یہسورت بالا تفاق مکی ہے، ابن عباس اور ابن زبیر (رض) سے یہی مروی ہے۔