(7) جب انہوں نے باغ کو جلا ہا پایا تو ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ یہ ہمارا باغ نہیں ہے، ہمراہ بھٹک کر کہیں اور پہنچ گئے ہیں، لیکن حقیقت کو کب تک جھٹلاتے، انہیں یقین تو ہو ہی گیا تھا کہ ان کا باغ جل گیا ہے، اب انہیں فوراً یہ احساس ہوا کہ ہماری بد نیتی اور مساکین کا حق نہ دینے کے برے ارادہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی نعمت سے محروم کردیا ہے اور ہمارے باغ کا یہ حال ہوگیا ہے ہمارے باپ اللہ کے شکر کے طور پر ہر سال باغ کے پھل سے فقیروں کا حق نکالتے تھے اور ان میں تقسیم کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ ان کے باغ کی حفاظت کرتا تھا۔