فهرس الكتاب

الصفحة 6278 من 6343

(1) اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے زمانے کی قسم کھا کر کہا ہے کہ بالعموم انسان خسارے میں ہے، سوائے اس آدمی کے جس کے اندر و وہ چار صفات پائی جائیں جن کا ذکر آیت (3) میں آیا ہے۔

اور زمانے سے مراد " لیل و نھار" ہے جس کی گردش سے تاریکی اور روشنی پیدا ہوتی ہے اور جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا کوئی بنانے والا ہے، اور وہ ایک ہے۔ " عصر" کے مفہوم کے بارے میں علماء کے متعدد اقوال ہیں، لیکن شوکانی کے نزدیک راجح وہی ہے جو میں نے بیان کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: زمانے کی قسم ! انسان گھاٹے میں ہے، اس لئے کہ وہ دنیا میں جب تک زندہ رہتا ہے، اسے کوئی نہ کوئی پریشانی لاحق ہوتی رہتی ہے اور اگر کفر پر موت ہوجاتی ہے تو اس کا ٹھکانا جہنم ہوتا ہے اور اپنی زعیز ترجان کو بھی کھو بیٹھتا ہے یعنی جہنم میں جانے کے بعد ہمیشہ کے لئے اس کی جان عذاب میں مبتلا رہے گی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت