قیامت کی تکذیب کرنے والوں کی ہلاکت و بربادی کے قصے بیان کرنے کے بعد، اب اس کی آمد کی کیفیت بیان کی جا رہی ہے سب سے پہلے اسرافیل (علیہ السلام) صور پھونکیں گے، جس کے زیر اثر تمام روحیں اپنے جسموں میں داخل ہوجائیں گی اور سب لوگ رب العالمین کے سامنے حاضری کے لئے کھڑے ہوجائیں گے اور زمین اور پہاڑ اوپر اٹھا کر ایک دوسرے سے اس طرح ٹکرا دیئے جائیں گے کہ آن واحد میں پوری دنیا تباہ و برباد ہوجائے گی اور پوری زمین ایک چٹیل میدان بن جائے گی اور قیامت واقع ہوجائے گی۔
اور آسمان پھٹ پڑے گا، اس کا رنگ بدل جائے گا اور نہایت کمزور اور ڈھیلا ڈھالا ہوجائے گا اور فرشتے آسمان کے کناروں پر پناہ لیں گے ضحاک کا قول ہے کہ قیامت کے دن جب آسمان پھٹ جائے گا تو فرشتے اس کے کناروں پر پناہ گزیں ہوجائیں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں زمین پر اترنے کا حکم دے گا، تو وہ اتر کر زمین اور اس پر رہنے والوں کو اپنے گھیرے میں لے لیں گے۔
اس دن آٹھ فرشتے اپنے سروں پر عرش کو اٹھائے ہوں گے بعض نے کہا ہے کہ لاتعداد فرشتے آٹھ صفوں میں بٹے ہوئے عرش کو اپنے سروں پر اٹھائے ہوں گے حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ " عرش" سے مراد یا تو " عرش عظیم" ہے یا وہ عرش جو قیامت کے دن فیصلہ کے لئے زمین پر رکھا جائے گا۔ واللہ اعلم