فهرس الكتاب

الصفحة 1244 من 6343

(2) مشر کوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے صرف چار ماکی مہلت دی گئی، جس کی ابتدا 10 ذی الحجہ سے ہوئی اور 10 ربیع الثانی کو ختم ہوگئی، ان سے کہا گیا کہ اس مدت میں چاہیں تو اسلام لے آئیں جو ان کے لیے ہر طرح بہتر ہے یا چاہیں تو جزیرہ عرب سے نکل جائیں، اور اگر باقی رہ جائیں گے تو انہیں بکڑ لیا جائے گا اور قتل کردیئے جائیں گے اور یہ چارماہ کی مدت انہیں دی گئی جن کے معاہد کی مدت اس سے کم تھی لیکن جو قبائل نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چارماہ سے زیادہ مدت کے یے معاہدہ کیا تھا وہ مدت ابھی باقی تھی تو انہیں ان کی پوری مدت دی گئی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ابن جریر نے اسی رائے کو تر جیح دی ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ مہلت مسلمانوں کی کمزوری کی وجہ سے نہیں دی گئی بلکہ اس میں حکمت یہ ہے کہ شاید تم تو بہ کر کے صدق دل سے اسلام کو قبول کرلو اور نہ تم لوگ کبھی بھی اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہو اور اگر تم اپنے کفر پر باقی رہے تو اللہ تمہیں رسوکر کے رہے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت