فهرس الكتاب

الصفحة 1854 من 6343

(20) یعنی تو نے جو مجھے گمراہ کردیا ہے، تو میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جب تک آدمی کی اولاد دنیا میں رہے گی، میں دنیا کو ان کے سامنے خوبصورت بنا کر پیش کروں گا، اور انہیں گناہوں پر ابھاروں گا، لیکن جو تیرے مخلص بندے ہوں گے اور اپنے دین و اعمال کو اللہ کے لیے خالص کریں گے ان پر میرا داؤ نہیں چلے گا، تو اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ مجھ تک پہنچنے کی یہی سیدھی راہ ہے، جو اس پر چلتا رہے گا وہ تمہارے دام فریب میں نہیں آئے گا، ہاں جو لوگ راہ حق سے بھٹکے ہوئے ہوں گے اور گمراہی جن کی طبیعت ثانیہ بن چکی ہوگی، وہ تمہاری سازش کا شکار ہوجائیں گے، ایسے تمام لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہوگا، جس کے سات دروازے ہوں گے، ہر دروازے سے جہنمیوں کی ایک متعین تعداد اپنے اپنے برے اعمال کے مطابق داخل ہوگی، علی بن ابی طالب اور عکرمہ سے مروی ہے کہ سات دروازوں سے مراد جہنم کے سات طبقے ہیں، اور ابن عباس کی روایت کے مطابق ان کے اور ان میں داخل ہونے والوں کے نام مندرجہ ذیل ہیں:

جہنم جو سب سے اوپر کا طبقہ ہے، اہل توحید کے لیے جو اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کے بعد اللہ کی رحمت خاص سے جہنم سے نکال کر جنت میں بھیج دیئے جائیں گے، لظی یوہد کے لی، حطمہ نصرانیوں کے لیے، سعیر بے دینوں کے لیے، سقر مجوسیوں کے لیے، جحیم مشرکوں کے لیے اور ہاویہ مفاقوں کے لیے، جو سب سے نیچے کا طبقہ ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت