فهرس الكتاب

الصفحة 5228 من 6343

(5) اس آیت کا تعلق اوپر کی آیت سے ہے اور اس سے مقصود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینی ہے اور یہ بیان کرنا ہے کہ بنی اسرائیل نے جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی کی اور ان کی اذیت کا سبب بنے، اسی طرح انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی بھی نافرمانی کی اور ان کی تکذیب کی۔

عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے زمانہ کے یہودیوں سے کہا: اے نبی اسرائیل ! (یعنی یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم کی اولاد) میں نبی بنا کر اور انجیل دے کرت مہاری ہدایت کے لئے بھیجا گیا ہوں اور میں وہی دعوت لے کر آیا ہوں جو تورات کی دعوت تھی، یعنی ایک اللہ کی بندگی اور غیروں کی عبادت کا انکار اور میرے ذریعہ تورات کی تصدیق یوں بھی ہوتی ہے کہ تورات میں میری بعثت کی خبر موجود ہے اور اب میں مبعوث ہوچکا ہوں تو ثابت ہوا کہ تورات اللہ کی سچی کتاب ہے اور میں تمہیں اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی بشارت دیتا ہوں جن کا نام احمد ہوگا۔

اور جب میرے ذریعہ تو رات کی تصدیق ہو رہی ہے اور میں ایک نئے رسول کی بشارت دے رہا ہوں تو تمہیں مجھ پر ایمان لانا چاہئے نہ کہ میری تکذیب کرنی چاہئے۔

محمد بن اسحاق نے اسناد جید کے ساتھ اصحاب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے، انہوں نے کہا، اے اللہ کے رسول ! آپ اپنے بارے میں ہمیں بتائیے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا اور عیسیٰ کی بشارت ہوں اور جب میری ماں حمل سے ہوئیں تو انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ان کے جسم سے ایک نور نکلا ہے جس نے سر زمین شام میں بصریٰ کے محلوں کو روشن کردیا ہے۔

انجیل یوحنا، باب (41) میں آیا ہے: میں باپ سے طلب کروں گا، تو وہ تمہیں ایک " فارقلیط" دے گا صاحب اظہار الحق نے لکھا ہے کہ " قار قلیط" کا معنی محمد یا احمد ہے اور انجی برناب اس میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر جمیل صریح عبارتوں میں آیا ہے اور کہا ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہوں گے۔

یہودیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے تمام معجزات کا مشاہدہ کرنے کے باوجود ان کی تکذیب کردی اور کہا کہ یہ جو کچھ ہمارے سامنے پیش کر رہا ہے کھلا جادو ہے۔

بعض مفسرین نے (فلما جاء ھم بالبینات قالوا ھذا سحرمبین) میں ضمیر کا مرجع نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مانا ہے، ایسی صورت میں عنی یہ ہوگا کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار مکہ کے سامنے اپنی نبوت اور قرآن کی صداقت کے دلائل پیش کئے تو انہوں نے کہا کہ یہ تو کھلا جادو ہے، جس کے ذریعہ محد ہمیں محسور کرنا چاہتا ہے، جیسے فرعون نے موسیٰ سے، اور بنی اسرائیل نے عیسیٰ سے کہا تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت