فهرس الكتاب

الصفحة 3735 من 6343

24 نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے قبل جب کفار قریش کو معلوم ہوا کہ یہود و نصاریٰ نے موسیٰ اور عیسیٰ علیہا السلام کو جھٹلایا تھا، تو انہوں نے ان پر لعنت بھیجی اور قسم کھائی کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کے پاس اپنا کؤی نبی بھیجے گا تو وہ اہل کتاب سے اچھے ثابت ہوں گے، اس پر ایمان لے آئیں گے اور اس کی تکریم کریں گے، لیکن جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے تو انہوں نے ان سے شدید نفرت وعداوت کی، کبر و غرور کی وجہ سے ان پر ایمان نہیں لائے اور لوگوں کو اللہ کے دین سے برگشتہ کرنے کے لئے نوع بہ نوع سازشیں کیں، وہ نادان اس حقیقت سے نابلد تھے کہ ہر بری سازشیں بالاخر سازش کرنے والے ہی کے گلے کا پھندا بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان کے کردار سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اس انتظار میں ہیں کہ اللہ انہیں بھی گزشتہ ظالم قوموں کی طرح ہلاک کر دے، اگر انہوں نے اپنی حالت نہیں بدلی تو یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اللہ کا قانن کبھی نہیں بدلتا ہے اور نہ ایسا ہوتا ہے کہ عذاب کا مستحق کوئی ہو اور نازل ہوجائے کسی اور پر اس لئے اہل مکہ کے لئے اس میں خیر ہے کہ عذاب کا وقت آنے سے پہلے توبہ کرلیں اور اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت