فهرس الكتاب

الصفحة 2528 من 6343

(12) خزاعہ، جہنہ، بنو سلمہ اور بنس ملیح کے قبائل کہتے تھے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ یہود کا عقیدہ تھا، اور صحیح یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ عام ہیں اور اس ضمن میں ہر وہ شخص یا گروہ داخل ہے جو اس زمانے میں اللہ کے لیے اولاد ثابت کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس نقص سے اپنی پاکی بیان کی اور فرشتوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ تو اللہ کے مکرم بندے ہیں، اپنے کمال عبودیت کی وجہ سے اللہ کے بارے میں اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کہتے، اور اللہ کے حکم کے مطابق عمل کرتے ہیں، اس کے حکم سے سر مو بھی روگردانی نہیں کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا علم ان فرشتوں کے اگلے پچھلے تمام احوال و کوائف کو محیط ہے، ان کی کوئی بات اس سے مخفی نہیں ہے اور وہ فرشتے قیامت کے دن اللہ کے حضور صرف انہی کی سفارش کریں گے جن کے لیے اللہ تعالیٰ سفارش کیا جانا پسند کرے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ آیت (255) میں فرمایا ہے: ( من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ) اور سورۃ سبا آیت (23) میں فرمایا ہے: ( ولا تنفع الشفاعۃ عندلہ الا لمن اذن لہ) دونوں آیتوں کا مفہوم یہی ہے کہ قیامت کے دن اللہ کی اجازت کے بغیر انبیائے کرام، فرشتے یا اللہ کے دیگر نیک بندے کسی کی شفاعت نہیں کریں گے۔ اور وہ فرشتے اللہ کی مرضی کے بغیر کیسے کسی کی شفاعت کریں گے، وہ تو خود ہی اللہ تعالیٰ کے قہر و جبروت سے شدید خائف ہوں گے۔

آیت (29) میں بتایا گیا ہے کہ فرشتوں کی تمام مذکور بالا خوبیوں کے باوجود، اگر بفرض محال یہ مان لیا جائے کہ ان میں سے کوئی معبود ہونے کا دعوی کر بیٹھے گا تو اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا، اس لیے مشرکین کا یہ کہنا محض افترا پردازی ہے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اور ان کی عبادت اس لالچ سے کرنا کہ وہ اللہ کے نزدیک سفارشی بنیں گے، ظلم عظیم ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت