(4) (الا ماشاء اللہ) کا مفہوم یہ ہے کہ اگر اللہ آپ کے دل سے وحی کی کسی بات کو بھلانا چاہے گا تو آپ بھول جائیں گے فراء کا قول ہے: ل یکن اللہ تعالیٰ نے نہیں چاہا کہ آپ وحی کا کوئی حصہ بھول جائیں۔ اس سے مقصود محض اللہ کی قدرت و مشیت کو ثابت کرنا ہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ استثناء مجازی ہے جو قلت کے معنی میں ہے اور اس سے مقصود نفی ہے، یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وحی کا کوئی بھی حصہ ہرگز نہیں بھولیں گے۔ فخر الدین رازی اور زفحشری نے اپنی تفسیروں میں فراء کے قول کی بھرپورتائید کی ہے اور کہا ہے کہ اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل سے وحی کا کوئی حصہ بھلا دینا نہیں چاہا اس بات پر ہمارا قطعی ایمان ہے۔
آیت کے دوسرے حصہ (انہ یعلم الجھرو مایخفی) کا مفہوم یہ ہے کہ باری تعالیٰ سے کوئی بات مخفی نہیں ہے، وہ ظاہر و پوشیدہ سب کچھ جانتا ہے اسے خوب معلوم ہے کہ اس کے بندوں کی مصلحت کس امر میں ہے اور اس ضمن میں اس کا یہ ازلی علم بھی ہے کہ وہ ان کی ہدایت کے لئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل کرے گا، جس کے ذریعہ انہیں کفر و شرک کی ظلمتوں سے نکال کر دین اسلام کی وسعتوں اور پہنائیوں میں پہنچا دے گا۔