فهرس الكتاب

الصفحة 5444 من 6343

(1) نسائی اور حاکم وغیرہ نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ اس آیت کریمہ میں " سائل" یعنی پوچھنے والا سے مراد نضر بن حارث ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے کافروں سے وعدہ عذاب کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ اے اللہ ! اگر تیری جانب سے یہی بات حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے، یا کوئی درد ناک عذاب ہم پر نازل کر دے۔ نضر بن حارث کے اس قول کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانفال آیت (32) میں بیان کیا ہے: (اللھم ان کان ھذا ھوا الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء اوئتنا بعذاب الیم) تو اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی آیات (1/2) میں اسکی بات کا جواب دیا کہ ایک پوچھنے والے نے اس عذاب کے بارے میں پوچھا ہے جس کا واقع ہونا یقینی ہے، اور وہ عذاب کافروں کے لئے ان کے کفر کی وجہ سے ہے، اور اس کا فیصلہ اللہ کی جانب سے ہوچکا ہے اب اسے کوئی ٹال نہیں سکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحج آیت (47) میں فرمایا ہے: (ویستعجلونک بالعذاب ولن یخلف اللہ وعدہ) " اور مشرکین مکہ آپ سے عذاب لانے کی جلدی کرتے ہیں اور اللہ اپنے وعدہ کے خلاف ہرگز نہیں کرے گا" چنانچہ صحیح روایت میں ثابت ہے کہ نضر بن حارث میدان بدر میں بری طرح مارا گیا۔

" ذی المعارج" اللہ کی صفت ہے، یعنی وہ عذاب اس اللہ کی جانب سے ہے جو " معارج والا" ہے مفسرین نے اس کلمہ کیتین معانی بیان کئے ہیں: ایک روایت میں ابن عباس (رض) سے اس کا معنی " ذی السماوات" مروی ہے، یعنی آسمانوں والا، اس لئے کہ فرشتے ان آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں دوسری روایت قتادہ سے ہے کہ اس کا معنی " ذی الفواضل والنعم" ہے یعنی وہ اللہ جو نعمتوں اور احسانات والا ہے اور تیسرا قول ہے کہ " معارج" سے مراد جنت کے وہ درجات ہیں جو اللہ کی طرف سے اس کے اولیاء اور صالحین کو ملیں گے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت