فهرس الكتاب

الصفحة 2259 من 6343

(62) حقیقی معنی میں خسارہ اٹھانے والے کون ہیں۔ مندرجہ ذیل چار آیتوں میں انہی کی صفات بیان کی گئی ہیں اور پھر قیامت کے دن ان کا انجام بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو خطاب کر کے فرمایا ہے، آپ کافروں سے پوچھیئے کیا میں تمہیں بتا دوں کہ سب سے زیادہ کون خسارہ پانے والا ہے؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کی دنیاوی زندگی کی تمام کوششیں رائیگاں ہوگئیں، حالانکہ وہ سمجھتے رہے کہ وہ اپنے حق میں بہت ہی اچھا کر رہے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی آیتوں، بعث بعد الموت اور حساب و جزا کا انکار کردیا، جس کے نتیجہ میں ان کے اعمال بالکل ہی بے کار ہوگئے، اور قیامت کے دن اللہ کی نگاہ میں ان کی کوئی وقعت و اہمیت نہیں ہوگی، بلکہ حقارت کے ساتھ ٹھکرا دیئے جائیں گے اس لیے کہ اللہ کے نزدیک صرف نیک اعمال کا اعتبار ہے جب ان کی جھولی میں اعمال صالحہ رہے ہی نہیں تو حقیر ترین بندے بن گئے، اللہ تعالیٰ نے مزید تاکید کے طور پر فرمایا کہ ان کے کفر کی وجہ سے ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور اس لیے کہ انہوں نے میری آیتوں اور میرے رسولوں کا مذاق اڑیات تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت