فهرس الكتاب

الصفحة 5326 من 6343

(12) جو لوگ حق سے اعراض کرتے ہیں اور اللہ سے سرکشی کی راہ اختیار کرتے ہیں، ان سے بطور زجر و توبیخ کہا جا رہا ہے کہ اگر رحمٰن تمہیں کسی تکلیف میں مبتلا کرنا چاہے، تو اس کی ذات کے سوا کون ہے جو تمہاری مدد کرے اور اس مصیبت سیت مہیں نجات دلاوے حقیقت یہ ہے کہ شیطان نے کافروں کو دھوکہ میں ڈال رکھا ہے، اس نے ان کی نگاہوں میں اعمال شرک کو خوبصورت بنا دیا ہے اور اس فریب میں مبتلا کردیا ہے کہ مرنے کے بعد نہ کوئی دوسری زندگی ہے اور نہ حساب و کتاب اور اگر بالفرض کوئی دوسری زندگی ہوگی تو ان کے معبود اللہ کے حضور ان کے سفارشی بنیں گے اور انہیں نجات دلا دیں گے۔

آیت (21) میں انہی سرکشوں سے کہا جا رہا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے بارش کو روک دے اور تم پر اپنی روزی کے دروازے بند کر دے تو تمہیں پانی کون پلائے گا اور روزی کون دے گا مخلوق کا حال تو یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو روزی رسانی کی قدرت نہیں رکھتی تو دوسروں کو کیسے پہنچا سکے گی۔

لیکن سرکشوں کو ان آیتوں سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، بلکہ ان کا استکبار اور بڑھ جاتا ہے اور حق سے مزید دور ہوتے جاتے ہیں اور اس عقیدہ پر اصرار کرتے ہیں کہ ان کے معبود ہی انہیں مصیبتوں سے بچاتے ہیں اور انہیں روزی دیتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت