فهرس الكتاب

الصفحة 2097 من 6343

(34) مسلمانوں کا مشرکین مکہ کے ساتھ کبھی کبھار توحید و شرک اور رسالت و آخرت کے مسئال پر تکرار ہوجاتا، تو مسلمان کوئی سخت لفظ استعمال کرجاتے مثلا جہنم کی دھمکی دے دیتے، اس اسلوب کلام سے کافروں کی عداوت مزید بھڑک اٹھتی، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو خطاب کر کے فرمایا کہ آپ مسلمانوں کو نصیحت کریں کہ وہ کافروں کو دعوت اسلام دیتے وقت گفتگو کا انداز اچھا رکھیں اور سخت کلامی سے پرہیز کریں، کیونکہ شیطان تو گھات لگائے بیٹھا رہتا ہے کہ کب اسے لوگوں کے درمیان شر پھیلانے کا موقع مل جائے، اس کے بعد مشرکین قریش کو خطاب کر کے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے حقائق سے خوب واقف ہے، اگر چاہے گا تو تم پر رحم فرمائے گا اور تم حلقہ بگوش اسلام ہو کر اس کی جنت کے حقدار بن جاؤ گے، اور اگر چاہے گا تو تمہیں دولت ایمان سے محروم کردے گا، تمہارے موت شرک پر ہوگی اور تم قیامت کے دن عذاب کے مستحق ہوگے۔

آیت کے آخر میں نبی کریم کو خطاب کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے آپ کو کافروں کی ہدایت کا ذمہ دار بنا کر نہیں مبعوث کیا ہے کہ آپ انہیں بہرحال ایمان لانے پر مجبور کریں، آپ تو ہمارے رسول ہیں، پیغام پہنچا دینے کے بعد آپ کی ذمہ داری پوری ہوجاتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت