فهرس الكتاب

الصفحة 4291 من 6343

(23) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دیگر دعاۃ الی اللہ کو ایک بہت ہی اہمت علیم دی گئی ہے اور اس کی ابتدایوں کی گئی ہے کہ اچھا عمل اور براعمل دونوں برابر نہیں ہو سکتے ہیں، اچھا عمل آدمی کو جنت تک پہنچاتا ہے اور فرشتوں کی صحبت کا سبب بنتا ہے اور برا عمل جہنم کی طرف لے جاتا ہے اور شیاطین کی دوستی کا ذریعہ بنتا ہے، اس لئے اے میرے نبی ! اگر کوئی برائی آپ کے آڑے آئے، تو اچھائی کے ذریعہ اسے اپنے آپ سے دور کردیجیے، برائی کا جواب اچھائی سے، قصور کا جواب عفو و در گذر سے، غصہ کا جواب صبر سے، لغزش کا جواب نظر انداز کر کے اور دعوت کی راہ میں ایذا رسانیوں کو برداشت کر کے دیجیے آپ جب ایسا کریں گے تو دشمن دوست اور دور قریب کی طرح ہوجائیں گے۔

قاشانی لکھتے ہیں: جب آپ دشمن کی برائی کو کسی بہت ہی بہتر اچھائی کے ذریعہ دور کرسکتے ہیں، تو اس سے کم درجہ کی اچھائی کے ذریعہ اسے دور نہ کیجیے برائی کے ذریعہ اس کا دور کرناتو کس حال میں بھی جائز نہیں ہوگا، کیونکہ آگ کے شعلے اور بھڑک اٹھیں گے اور آپ اپنی خواہش اور شیطان کے پیرو کار ہوجائیں گے۔

آیت (35) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ شریف خصلت اور عظیم فضیلت تو انہیں نصیب ہوتی ہے جو درود و الم کے گھونٹ خاموشی کے ساتھ پی جاتے ہیں اور اپنے رب کی طاعت و بندگی پر صبر کے ساتھ قائم رہتے ہیں۔ یہ رتبہ بلند تو اسے ملتا ہے جو اللہ کے نزدیک بڑا ہی سعادت مند ہوت ہے، اس کے اندر خیر کی صلاحیتیں کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہیں، عقل سلیم اور خلق عظیم کا مالک ہوتا ہے اور سب سے اول و آخر اپنے رب سے ثواب کی امید لگائے زندگی گذارتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت