(22) ابن عباس کے قول کے مطابق جب وہ تینتیس سال کے ہوگئے اور عکرمہ کے قول کے مطابق پچیس سال کے، اور ایک تیسرے قول کے مطابق چالیس سال کے تو اللہ نے انہیں حاکم مصر بنا دیا اور عقل و فہم اور فقہ و نبوت سے نوازا۔
ابن جریر طبری کہتے ہیں کہ آیت کے آخری حصے (وکذلک نجزی المحسنین) میں اگرچہ ہر بھلائی کرنے والے کے لیے اللہ کا وعدہ ہے کہ انہیں وہ اچھا بدلہ دے گا، لیکن یہاں مقصود نبی کریم ہیں کہ انہیں اللہ مشرکین مکہ سے نجات دے گا اور ان پر غلبہ عطا کرے گا۔