(3) بعث بعد الموت اور قیامت کا منکر بطور استہزاء پوچھتا ہے کہ قیامت کب آئے گی، اس لئے کہ وہ وقوع قیامت کو بعید از عقل بات سمجھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس استہزاء آمیز سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ ہاں جب قیامت آئے گی تو آدمی کی آنکھیں شدت خوف و دہشت سیپ تھرا جائیں گی اور حرکت کرنے سے رک جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ ابراہیم آیت (42) میں فرمایا ہے: (انما یوخرھم لیوم تشخص فیہ الابصارم) " اللہ تعالیٰ انہیں اس دن تک مہلت دیئے ہوئے ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ "
اور اس دن ماہتاب ہمیشہ کے لئے اپنی روشنی کھو دے گا اور آفتاب و ماہتاب دونوں اکٹھا کردیئے جائیں گے، دونوں کی روشنی ختم ہوجائے گی اور رات اور دن کا ایک دوسرے کے بعد آنا بند ہوجائے گا اس دن انسان مارے دہشت کے ہر چہار جانب بھاگنے کی کوششکرے گا، لیکن اسے کوئی جائے فرار نہیں ملے گی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (کلا لاوزر) ہرگز نہیں، اب کوئی جائے پناہ نہیں ہے، اب تو سبھی رب العالمین کے سامنے کھڑے ہیں اور اپنے بارے میں اس کے فیصلے کے منتظر ہیں کہ جنت کا فیصلہ ہوتا ہے یا جہنم کا اس دن ہر آدمی کو اس کے اچھے اعمال کی خبر دی جائے گی جو اس کی نجات کا سبب بنیں گے اور ان اعمال کی بھی جن کی ادائیگی میں اسنے تفریط و تقصیر سے کام لیا تھا بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ خبر انسان کو اعمال کے وزن کے وقت دی جائے گی اور بعض کہتے ہیں کہ یہ خبر اسے موت کے وقت دی جائے گی، قرطبی کے نزدیک پہلا قول راجح ہے۔
آیت (14) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بلکہ انسان کے اعضاء و جوارح اس کے کرتوتوں کی گواہی دیں گے، جیسا کہ سورۃ النور آیت (24) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (یوم تشھد علیھم السنتھم وایذیھم وارجلھم بماکانوا یعملون) " جس دن کافروں کی زبانیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے خلاف ان کے کرتوتوں کی گواہی دیں گے۔ "
حسن بصری نے اس کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ اس دن ہر آدمی اپنے عیوب و نقائص سے خوب واقف ہوگا، اگرچہ عذاب سے بچاؤ کی ناکامکوشش میں جھوٹے اعذار پیشک رے گا لیکن اس کا کوئی فائدہ اسے نہیں پہنچے گا۔