فهرس الكتاب

الصفحة 4116 من 6343

(15) اللہ تعالیٰ نے دنیا اور اس کی نعمتوں کی بے ثباتی بیان کرنے کے لئے قرآن کریم کی بہت سی آیتوں میں دنیاوی زندگی کو اس پانی سے تشبیہہ دی ہے جو آسمان سے نازل ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے ہرے بھرے پودے اگتے ہیں، درختوں میں پھل آتے ہیں اور پھر کچھ ہی دنوں کے بعد ختم ہوجاتے ہیں اس آیت کریمہ میں بھی اللہ تعالیٰ کیق درت و علم کے مظاہر بیان کر کے اس کے وجود پر ایمان لانے کے وجوب پر استدلال کیا گیا ہے، نیز دنیاوی زندگی کی بے ثباتی کو بیان کیا گیا ہے، جیسا کہ سورۃ الکہف آیت (45) میں آیا ہے: (واضرب لھم مثل الحیاۃ الدنیا کماء انزلناہ من السماء فاختلط بہ نبات الارض فامنبع نشیماتذروہ الریاح وکان اللہ علی کل شیء مقتدرا) " ان کے سامنے آپ دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کیجیے جیسے وہ پانی جسے ہم آسمان سے اتارتے ہیں، اس سے زمین کا سبزہ ملا جلا نکلتا ہے، پھر آخر کار وہ چورا چورا ہوجاتا ہے جسے ہوائیں اڑائے لئے پھرتی ہیں۔ معلوم ہوا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت