فهرس الكتاب

الصفحة 1291 من 6343

(38) محمد بن اسحاق نے زہری مجاہد اور ابن عباس وغیر ہم سے روایت کی ہے کہ یہ آیت الجد بن قیس کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو بنو سلمہ کا سردار تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب غزوہ تبوک کی تیاری کر رہے تھے تو ایک دن ان سے کہا کہ تم اہل روم کی دودھ دینے والی انٹنیوں میں غبت رکھتے ہو ؟ تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! آپ مجے مدینہ میں رہنے کی اجازت دے دیجئے اور فتنہ میں نہ ڈالئے مجھے ڈر ہے کہ اگر میں ان عورتوں کی دیکھ لیا تو مجھ سے صبر نہ ہو سکے گا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی طرف منہ پھیر لیا اور کہا کہ میں نے تجھے اجازت دے دی۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے اجاززت لینے لیے جو غیر مؤدبانہ اسلون اختیار کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہیں گیا تو اس سے بڑھ کر اور کیا فتنہ ہو سکتا ہے کہ غیر مؤدبانہ جھوٹا عذر پیش کیا اور جہاد سے پیچھے رہ گیا

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت