فهرس الكتاب

الصفحة 2553 من 6343

(20) اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بچپن ہی میں شمس و قمر اور دیگر ستاروں میں غور وفکر کر کے توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کو سمجھنے اس پر ایمان لانے اور اپنے باپ آذر اور اس کی قوم کے سامنے اس عورت کو پیش کرنے کی توفیق دی تھی، اس لیے کہ اللہ جانتا تھا وہ اس عقیدہ کو قبول کرنے اور پھر اسے دوسروں کے سامنے پیش کرنے کی پوری اہلیت و صلاحیت رکھتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر اور اس کی قوم نمرود اور اس کے ماننے والوں سے پوچھا کہ اینٹ، پتھر اور لکڑٰ کے بنے ان حقیر اور بے جان مجسموں کی کیا حقیقت ہے کہ تم لوگ ان کی عبادت کرتے ہو، نہ یہ نفع پہنچاتے ہیں نہ نقصان، یہ خود تمہارے ہی ہاتھوں کے بنے ہوئے بے جان مجسمے ہیں کس عقل کا تقاضا ہے کہ ان کی عبادت کی جائے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے آباو اجداد ان کی عبادت کرتے آئے ہیں اس لیے ہم بھی ان کی عبادت کرتے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے۔ آبا واجداد کی اندھی اور جاہلانہ تقلید کے علاوہ ان کے پاس اپنے مشرکانہ اعمال کی کوئی عقلی دلیل نہیں تھی، ابراہیم نے کہا تم اور تمہارے باپ دادے سبھی کھلی گمراہی میں بھٹکتے رہے ہیں۔ کیا اس سے بھی بڑھ کر بے عقلی ہوسکتی ہے کہ انسان ایسے بتوں کی پرستش کرے جو نہ نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان اور جو نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ سن سکتے ہیں۔ نفسی لکھتے ہیں کہو وہ اور ان کے باپ دادے سبھی کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔

کافروں نے ان کی یہ بات سن کر کہا کہ اے ابراہیم ! جو کچھ تم ہم سے کہہ رہے ہو سنجیدگی کے ساتھ کہہ رہے ہو یا یونہی ہم سے مذاق کر رہے ہو، اور تمہاری گفتگو کا کوئی مطلب نہیں ہے؟ تو ابراہیم نے اپنی داعیانہ گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں اپنی گفتگو میں بالکل سنجیدہ ہوں اور تمہیں بتاتا ہوں کہ تماہرا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے انہیں پیدا کیا ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے اور نہ کوئی رب،۔

مفسرین لکھتے ہیں کہ جب قوم ابراہیم کی عید کا دن آیا تو انہوں نے ابراہیم سے کہا کہ اگر تم ہمارے ساتھ عید کی خوشیوں میں شریک ہوگے تو ہمارا دین تمہیں پسند آئے گا، ابراہیم نے معذرت کردی اور دل میں کہا کہ اگر تم دعوت توحید کو میری زبان سے سن کر قبول نہیں کرتے ہو، تو اب میں تمہیں عملی طور پر سمجھاؤں گا کہ ان بتوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اور جب تم ان کی پوجا کر کے اپنے گھروں کو چلے جاؤ گے تو میں اس منکر کو اپنے ہاتھے سے بدلنے کی کوشش کروں گا۔ چنانچہ ابراہیم نے کلہاڑی سے تمام بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے، صرف بڑے بہت کو چھوڑ دیا اور اس کی گردن میں کلہاڑی لٹکا دی، تاکہ جب واپس آئیں اور اپنے معبودوں کا یہ حال دیکھیں اور بڑ؁ بت کی گردن میں کلہاڑی لٹکتا دیکھیں تو اس سے کچھ پوچھنا چاہیں، اور جب وہ اپنی زبان حال سے اپنی عاجزی اور درماندگی کا اعلان کرے تو مشرکوں کو کچھ تو سمجھ میں آئے کہ ان کے چھوٹے معبود کیا، بڑا معبود بھی تکنا عاجز و بے بس ہے کہ انہیں کچھ پتا بھی نہیں سکتا، تو پھر یہ معبود کیسے ہوسکتے ہیں؟ واپس آنے کے بعد جب انہوں نے بتوں کا یہ حال دیکھا تو کہنے لگے کہ جس نے ہمارے معبودوں کے ساتھ ایسی اہانت آمیز حرکت کی ہے، اس نے بہت ہی برا کام کیا ہے کہ جن بتوں کی ہم پرسش کرتے تھے ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے ہیں تو انہی میں سے بعض لوگوں نے کہا کہ ایک نوجوان جس کا نام ابراہیم ہے، ہمارے معبودوں کے بارے میں ایسی باتیں کرتے ہوئے سنا گیا تھا، لوگوں نے کہا کہ پھر اسے ہم سب کے سامنے لایا جائے، اور ایسی عبرت ناک سزا دی جائے کہ دوسروں کے لیے عبرت بن جائے، حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) یہی تو چاہتے تھے کہ پوری قوم کے سامنے انہیں دعوت توحید پیش کرنے اور بتوں کی بے بسی بیان کرنے کا موقع ملے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت