فهرس الكتاب

الصفحة 6171 من 6343

(1) بخاری و مسلم اور دیگر محدثین نے جندب بجلی سے روایت کی ہے کہ ایک بار نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار پڑگئے، اس لئے دو یا تین راتیں تہجد کی نماز نہیں پڑھ سکے، تو آپ کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی، اے محمد ! میں دیکھ رہی ہوں کہ تمہارے شیطان نے تمہیں چھوڑ دیا ہے، دو تین راتوں سے وہ تمہارے قریب نہیں آیا ہے، تب اللہ تعالیٰ نے (والضحی والیل اذا سجی ما ودعک ربک وما قلی) نازل فرمایا، مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ عورت ابولہب کی بیوی ام جمیل تھی۔

ابن جریر، سعید بن منصور اور طبرانی غیرہ نے جندب سے روایت کی ہے کہ کچھ دن جبریل (علیہ السلام) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نہیں آئے تو مشرکین کہنے لگے کہ محمد کو چھوڑ دیا گیا تب آیت (ماودعک ربک وما قلی) نازل وئی۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے نبی ! صبح کی قسم جب اس کی روشنی پھیل جاتی ہے اور رات کی قسم جب اس کی تاریکی گہری ہوجاتی ہے، آپ کے رب نے ہمیشہ آپ کی دیکھ بھال کی ہے، آپ کا خیال رکھا ہے ایک لمحہ کے لئے بھی آپ کو نظر انداز نہیں کیا ہے اور نہ آپ کو مبغوض جانا ہے، بلکہ آپ سے غایت درجہ محبت کی ہے۔

اور اللہ تعالیٰ آئندہ آپ کا خیال رکھے گا ہر آنے والا دن آپ کے لئے گزشتہ دن سے بہتر ہوگا، چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درجات اللہ کی نگاہ میں بنلد ہوتے رہے، آپ کے دشمن مغلوب ہوتے گئے اور آپ کا دین غالب ہوتا گیا اور دن بہ دن آپ پر اللہ تعالیٰ کے انعامات و احسانات بڑھت یہی گئے اور آپ کا مقام اونچا سے اونچا ہوتا گیا، یہاں تک کہ آپ اپنے رب کے نزدیک اس مقام پر فائز ہوگئے جو اولین و آخرین میں سے کی کو نصیب نہیں ہوا۔

اور آخرت میں آپ کو جو مقام ملے گا اور جن نعمتوں سے آپ نوازے جائیں گے ان کی تعبیر انسانی الفاظ میں ممکن نہیں، اسی لئے اللہ نے کہا: (ولسوف یعطیک ربک فترضی ) " اور عنقریب آپ کا رب آپ پر اپنے انعامات کی بارش کرے گا تو آپ راضی ہوجائیں گے۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت