(13) اس آیت کریمہ سے مقصود مشرکین مکہ کے اس قول کی تردید ہے کہ محمد یا تو کاہن ہے جوغیب کی خبریں لانے کا دعویٰ کرتا ہے، یا اسے جنون لاحق ہوگ یا ہے جس کے سبب بہکی بہکی باتیں کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کر کے فرمایا کہ آپ لوگوں کو قرآن کریم پڑھ کر ان کے رب کی طرف بلاتے رہئے۔ آپ پر آپ کے رب کا بڑا انعام ہے کہ اس نے آپ کو نبوت، عقل راجح اور عظیم اخلاق کریمانہ سے نوازا ہے، آپ کا ہن اور مجنون کیسے ہو سکتے ہیں؟ آپ تو جو کچھ بیان کرتے ہیں وہ اللہ کی وحی ہوتی ہے اور بندوں کے لئے اس کا پیغام ہوتا ہے، جسے آپ بلاکم وکاست ان تک پہنچاتے ہیں۔