(16) قوم عد نے جب افق آسمان پر ایک بادل کو پھیلا دیکھا جو ان کی وادیوں کی طرف بڑھا آرہا تھا (جو درحقیقت عذاب الٰہی تھا) تو دل کے اندھے خوشی سے کہنے لگے کہ یہ برسنے والا بادل ہے، تو ہود (علیہ السلام) نے کہا کہ یہ تو وہ عذاب ہے جس کی تمہیں جلدی تھی، یہ ایک تیز ہوا ہے جو اپنے اندر درد ناک عذاب لئے ہوئی ہے، یہ ہوا اپنے رب کے حکم سے تمہاری جان اور مال ہر چیز کو تباہ کر دے گی۔
چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اس آندھی نے تمام کافروں کو ہلاک کردیا، صرف ہود (علیہ السلام) اور ان کے مسلمان ساتھی بچ گئے، اور قوم عاد کے خالی اور ویران مکانات۔
آیت (25) کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ انجام بد قوم عاد ہی کے ساتھ خاص نہیں تھا، بلکہ وہ جو لوگ بھی شرک و معاصی کا ارتکاب کریں گے اور سرکشی کی راہ اختیار کریں گے، چاہے وہ اہل مکہ ہوں یا دوسرے لوگ، ان کا بھی ایسا ہی انجام ہوگا۔