(13) اوپر بیان کیا جاچکا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی، اے میرے رب ! میرے خاندان والوں میں سے میرے بھائی ہارون کو رسالت کی ذمہ داری اٹھانے میں میرا شریک و مددگار بنا دے، تاکہ ہم تیری خوب تسبیح بیان کریں اور تجھے خوب یاد کریں۔ تو ہمارے تمام حالات سے باخبر ہے اور جانتا ہے کہ میں نے تجھ سے جو مانگا ہے وہ ہمارے لیے مفید ہے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ آیات (33، 34) تسبیح و ذکر الہی کی فضیلت کی بہت بڑی دلیل ہیں، اس لیے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو علم تھا کہ اللہ تعالیٰ کو یہ عمل بہت زیادہ پسند ہے، اسی لیے انہوں نے اپنی دعا کی مقبولیت کے لیے اسے وسیلہ بنایا۔