(15) حافظ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اس پوری مدت کی خبر دی ہے جس میں اصحاب کہف سوئے رہے تھے وہ شمسی حسات سے تین سو سال اور قمری حساب سے تین سو نو سال کی مدت تھی، اس لیے کہ ہر شمسی سول سال، قمری ایک سو تین سال کے برابر ہوتا ہے، یہ ان کے سوئے رہنے کی مدت تھی، لیکن بیدار ہونے کے بعد انہیں موت آنے تک یا نزول قرآن تک کتنی مدت تھی اس کا علم صرف اللہ کو ہے، اس لیے کہ آسمانوں اور زمین کی غیبی باتوں کا علم صرف اسی کو ہے، وہ ہر چیز کو خوب دیکھ رہا ہے اور ہر آواز کو خوب سن رہا ہے اس کے علاوہ بندوں کا کوئی حقیقی یارومددگار نہیں، اس نے سارے جہان کی تخلیق اور اس کی تدبیر میں کسی کو اپنا شریک نہیں بنایا ہے، نہ اس کا کوئی وزیر ہے نہ ہی کوئی مشیر، وہ تمام نقائص سے برتر و بالا اور پاک ہے۔