(33) ہارون (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو تنبیہ کی تھی کہ تم لوگ بچھڑے کو اپنا معبود بنا کر گمراہ ہوگئے ہو، تمہارا رب وہ اللہ ہے جس کی صفت رحمن ہے، اس لیے میری بات مانو اور اسی کی عبادت کرو، تو ان گمراہوں نے جواب دیا کہ موسیٰ کے واپس آنے تک ہم اپنے اسی معبود کی عبادت کریں گے۔ ہارون (علیہ السلام) نے جب اس بت پرستی پر ان کا اصرار دیکھا تو ان بارہ ہزار افراد کو لے کر الگ ہوگئے، جنہوں نے بچھڑے کی پوجا نہیں کی تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) جب واپس پہنچے اور لوگوں کو بچھڑے کے گرد ناچتے اور گاتے دیکھا تو اپنے بھائی ہارون سے کہنے لگے کہ جب آپ نے ان کو گمراہ ہوتے دیکھا تو آکر مجھے خبر کیوں نہیں کی، آپ نے میرے حکم کی کیسے مخالفت کی، شدت ناراضگی میں ان کے سر اور داڑھی کے بال پکڑ کر کھینچنے لگے، تو ہارون (علیہ السلام) نے کہا، میرے بھائی ! میری داڑھی اور سر کے بال نہ کھینچو، میں نے تو یہ سوچا کہ اگر میں صرف موحدین کو لے کر تمہارے پاس آجاتا ہوں اور بچھڑے کی عبادت کرنے والوں کو چھوڑ دیتا ہوں تو تم کہو گے کہ آپ نے بنی اسرائیل کو دو حصوں میں بانٹ دیا اور میری بات کا خیال نہیں کیا کہ میری عدم موجودگی میں ان کی دیکھ بھال کیجیے گا۔
قرطبی لکھتے ہیں: امام ابوبکر طرطوشی سے ایسے لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا، جو ذکر اللہ اور ذکر رسول کے لیے جمع ہوتے ہیں، ڈھول بجاتے ہیں، اور ناچتے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ صوفیا کا مذہب بے کاری، جہالت اور گمراہی کا مجموعہ ہے، اس لام قرآن و سنت کا نام ہے، عبادت کے لیے رقص و سرود کا استعمال سب سے پہلے سامری نے کیا تھا، اسی نے بچھرا بنا کر لوگوں کو اس کی عبادت کی دعوت دی تھی، اور اس کے گرد رقص و سرود کی محفلیں جمائی تھی۔
معلوم ہوا کہ یہ کافروں کا اور بچھڑے کی عبادت کرنے والوں کا دین ہے، اور ڈھول کا استعمال سب سے پہلے زندیقیوں یعنی بے دینوں نے کیا جن کا مقصد مسلمانوں کو قرآن کریم کی تلاوت سے دور رکھنا تھا۔ نبی کریم اور صحابہ کرام کی مجلس تو ایسی ہوتی تھی کہ گویا ان کے سروں پر چڑیاں بیٹھی ہوں، اس لیے کسی مسلمان کے لیے ایسی مجلسوں میں شریک ہونا حلال نہیں ہے، جو عبادت کے نام پر رقص و سرود کے لیے منعقد کی گئی ہوں۔ ائمہ کرام مالک، ابو حنیفہ، شافعی اور حمد بن حنبل وغیرہم کا یہی مذہب ہے۔