(3) انہی کافروں کے اوصاف بیان کئیے گئے ہیں کہ وہ آخرت کی زندگی کو فراموش کردیتے ہیں، اور دنیا کی زندگی کو کامیاب بنانے میں منہمک ہوجاتے ہیں، اور اللہ کے بندوں کو راہ حق پر چلنے سے روکتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ صحیح راستہ نہیں ہے، یا چاہتے ہیں کہ لوگ اسلام سے برگشتہ ہوجائیں، یا اللہ کا دین ان کی خواہش نفس کے مطابق ہو، اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ وہ گمراہی کی راہ پر بہت دور جاچکے ہیں اور اولئک ضالون کے بجائے (اولئک فی ضلال) کہنے سے اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ گمراہی ان کی فطرت ثانیہ بن گئی ہے۔