(3) حقیقت یہ ہے کہ کوئی چیز نہیں جو تمہیں تمہارے رب کی جانب سے دھوکے میں ڈالے اور تمہیں تمہاری فطرت سے منحرف کر دے، بلکہ تمہارے رب کے بے باپاں احسانات تو تمہاری اس جانب رہنمائی کرتے ہیں کہ تم مرنے کے بعد دوبارہ ضرور اٹھائے جاؤ گے تاکہ تمہارے نیک و بد اعمال کا تمہیں بدلہ دیا جائے گا، لیکن تم محض کبر و عنا دکی وجہ سے سے بعث بعد الموت اور روز قیامت جزا اور سزا کا انکار کرتے ہو، اور کفر و ظلم اور دیگر معاصی کا ارتکاب کرتے ہو، یاد رکھو کہ ہم نے تمہارے اعمال کی گنتی اور انہیں ریکارڈ کرنے کے لئیفرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو تمہاے ایک ایک عمل کو لکھ رہے ہیں تم پوشیدہ یا ظاہر میں جو کچھ بھی اچھے یا بریے اعمال کرتے ہو، وہ فرشتے ان سب کو جانتے ہیں، تمہارے کسی قول و عمل سے غافل نہیں ہیں اور وہ سارے نیک و بداعمال روز قیامت اچانک تمہارے سامنے آجائیں گے۔ سورۃ ق آیات (17/18) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (عن الیمین وعن الشمال قعید، مایلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید) " ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا ہے انسان جوں ہی منہ سے کوئی لفظ نکالتا ہے، اس کے پاس موجود نگہبان اسے محفوظ کرلیتا ہے۔ "