13 پھر اس مرد مومن نے دعوت کے لئے غایت درجہ کا حکیمانہ اسلوب اختیار کرتے ہوئے جو بات لوگوں سے کہنی تھی، اس کا مخاطب اپنے آپ کو بتاتے ہوئے کہا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اس ذات برحق کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے، یعنی کیا وجہ ہے کہ تم لوگ اس اللہ کی وحدانیت کے قائل نہیں ہوتے ہو جو تمہارا خالق ہے، اور مرنے کے بعد جس کے پاس تمہیں لوٹ کر جانا ہے کیا یہ بات کسی طرح عقل میں آتی ہے کہ میں اس خالق و مالک کل کو چھوڑ کر ایسے بے جان بتوں کی پرستش کروں، کہ اگر اللہ مجھے کسی تکلیف میں مبتلا کر دے تو وہ میرے کسی کام نہ آئیں گے، نہ وہ اللہ کے پاس سفارشی ہی بن سکتے ہیں اور نہ ہی خود اس تکلیف کو دور کرسکتے ہیں، یعنی یہ کتنی بڑی حماقت آمیز بات ہوگی کہ جن بتوں کو میں اپنے ہاتھوں سے تراشوں، انہی کے سامنے سجدہ ریز ہوجاؤں، اگر میں ایسا کروں گا تو کھلم کھلا گمراہی میں مبتلا ہوجاؤں گا لوگو ! سن لو کہ میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا جو ہم سب کا خلاق و رازق اور مالک کل ہے، یعنی گواہ رہو کہ میں رب العالمین پر ایمان رکھتا ہوں اور بتوں کا انکار کرتا ہوں۔