فهرس الكتاب

الصفحة 4092 من 6343

(31) اوپر یہ بات گذر چکی ہے کہ ابلیس و آدم کا واقعہ بیان کرنے سے مقصود، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت پر دلیل پیش کرنی تھی، اور کفار قریش کو بتانا تھا کہ اس کا علم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس وحی کے ذریعہ ہوا جو اللہ نے آپ پر نازل کیا، اسی بات کے تکملہ کے طور پر یہاں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ جو لوگ آپ کی رسالت کی تکذیب کرتے ہیں، ان سے آپ کہہ دیجیے کہ میں اس تبلیغ وحی کا تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا اور جو کچھ میں تمہیں سناتا ہوں وہ واقعی اللہ کی وحی ہے، میں اسے خود نہیں گھڑتا ہوں، اور یہ بات تو تمہیں میرے بارے میں پہلے سے معلوم ہے کہ میں بچپن سے جھوٹ نہیں بولتا ہوں، اور اپنے لئے کسی ایسی صفت کا دعویٰ نہیں کرتا جو میرے اندر من جانب اللہ نہیں۔ اس لئے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ چالیس سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر بیٹھوں اور اپنی طرف سے ایک کلام گھڑ کر تمہیں سناؤں اور کہوں کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ یہ تو واقعی اللہ کا کلام ہے جسے اس نے دنیا والوں کی عبرت و نصیحت کے لئے نازل کیا ہے اور تمہیں اس کا یقین اس وقت ہوگا جب لوگ جوق در جقو اسلام قبول کرنے لگیں گے اور ہر طرف اسلام کا بول بالا ہونے لگے گا۔

مفسرین لکھتے ہیں کہ قرآن کریم کی یہ بات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت کی بہت بڑی دلیل تھی، اس لئے کہ جب یہ بات کہی گئی تھی اس وقت مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی اور ہر وقت ان کے ذہنوں پر مشرکوں کا خوف طاری رہتا تھا پھر دیکھتے ہی دیکھتے حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہوگئی اور مسلمان ایک عظیم قوت بن کر دنیا میں ابھرے اور قرآن کریم کی پیشین گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی۔ وباللہ التوفیق

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت