فهرس الكتاب

الصفحة 2093 من 6343

(33) توحید و رسالت کے سلسلے میں مشرکین مکہ کے شبہات کی تردید کرنے کے بعد اب بعث بعد الموت کے بارے میں ان کے شبہات کی تردید کی جارہی ہے، وہ کہتے تھے کہ آدمی جب مرجاتا ہے تو اس کی ہڈیاں گل سڑ کر مٹی میں مل جاتی ہیں، یہ بات بعید از عقل ہے کہ سابق جسم کے اجزا دوبارہ جمع ہوجائیں اور ان میں زندگی عود کر آئے؟ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا کہ مردہ بدن کو دوبارہ بنا کر اس میں زندگی دوڑا دینا، ہمارے لیے بہت ہی آسان ہے چاہے اس بدن سے زندگی کے آثار پتھر یا لوہے کی طرح کیوں نہ ناپید ہوگئے ہوں، یا کسی اور چیز کی طرح جس کا زندہ ہونا تمہارے نزدیک ناممکن ہو، اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اسے زندہ کردے گا اور کوئی چیز اس سے مانع نہیں بنے گی۔

مشرکین اس جواب پر کوئی اعتراض نہ کرسکے تو کہنے لگے کہ ہمیں کون زندہ کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم سے فرمایا آپ کہہ دیجیے کہ جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا ہے وہ یقینا دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے اس جواب پر کفار حیرت و استعجاب اور استہزا آمیز انداز میں اپنا سر ہلانے لگے کہ ایسا کب ہوگا؟ تو اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ وہ دن قریب ہے جب وہ تمہیں بلائے گا تو تم لوگ فورا اس کا جواب دو گے، یعنی مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے میں اللہ کو دیر نہیں لگے گی۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ فی الواقع مردوں کو آواز دے گا تو وہ اٹھ بیٹھیں گے جیسا کہ سورۃ ق آیت (41) میں آیا ہے (یوم یناد المناد من مکان قریب) کہ جس دن پکارنے والا قریب سے پکارے گا۔ اور مردے جب زندہ ہوں گے تو اللہ کی تعریف اور اس کی پاکی بیان کر رہے ہوں گے اور مارے دہشت کے قبروں میں رہنے یا دنیاوی زندی کی مدت کو بہت کم سمجھیں گے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت